سمندر میں تیل و گیس کی تلاش
پاکستان نے تقریباً دو دہائیوں بعد ایک بار پھر سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے، جسے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدوں اور لائسنسز کا عمل مکمل
حکومتی اعلامیے کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کے لیے مختلف کمپنیوں کے ساتھ پیداوار میں شراکت کے معاہدے اور تلاش کے لائسنس جاری کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد باضابطہ طور پر آف شور ایکسپلوریشن کا آغاز ہو گیا ہے۔
ابتدائی اور متوقع سرمایہ کاری
ابتدائی مرحلے میں تقریباً آٹھ کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ ڈرلنگ اور مزید پیش رفت کی صورت میں یہ سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
کن علاقوں میں تلاش جاری ہوگی
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو انڈس اور مکران کے سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر تئیس بلاکس کی منظوری دی گئی ہے جو ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔
بڑی توانائی کمپنیوں کی شمولیت
اعلامیے کے مطابق ماری انرجیز کو اٹھارہ بلاکس دیے گئے ہیں جبکہ دیگر قومی اداروں کو بھی مختلف بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں تاکہ مشترکہ طور پر تلاش کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
حکومتی مؤقف
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے اس پیش رفت کو توانائی پالیسی میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش سے مستقبل میں ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور درآمدی انحصار کم ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان کا بنگلادیشی طلبہ کو 500 اسکالرشپس فراہم کرنے کا اعلان










