پاکستانی مردوں میں منہ کے کینسر
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں منہ کا کینسر پاکستانی مردوں میں سب سے زیادہ پایا جا رہا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تشویشناک صورتحال
رپورٹ کے مطابق ملک میں منہ کے کینسر کی مجموعی شرح تقریباً 4 فیصد ہے، تاہم کراچی میں یہ شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق کراچی میں ہر پانچواں شخص گٹکا، مین پوری یا ماوا کے استعمال کا عادی ہے، جو اس بیماری کی بڑی وجہ ہے۔
وجوہات کیا ہیں؟
منہ کے کینسر کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں گٹکا، ماوا اور مین پوری کا استعمال تمباکو اور کیمیکلز کا زیادہ استعمال ناقص صفائی اور زبانی صحت کی کمی یہ تمام عوامل منہ کے اندرونی حصوں کو متاثر کر کے کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
قانونی کارروائیاں اور چیلنجز
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گٹکے کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، تاہم صرف 5 فیصد ملزمان کو سزا ملتی ہے ہزاروں کیسز ابھی تک زیر التوا ہیں ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ کمزور تفتیش اور پراسیکیوشن ہے۔
حکومتی اقدامات
سندھ پولیس کے مطابق گٹکا اور ماوا کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ اجلاس میں سخت اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ اس خطرناک رجحان کو روکا جا سکے۔
صحت پر اثرات
منہ کا کینسر ایک خطرناک بیماری ہے جس میں منہ میں زخم بولنے اور کھانے میں دشواری شدید درد اور سوجن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق اس بیماری سے بچاؤ کے لیے تمباکو اور گٹکا سے مکمل پرہیز کریں منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں باقاعدگی سے ڈینٹل چیک اپ کروائیں
اہم پیغام
یہ رپورٹ اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو منہ کے کینسر کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے عوامی آگاہی اور سخت قانون سازی بے حد ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستانی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت میں پیش رفت، عباس عراقچی










