مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ تعلقات اور جاری کشیدگی پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ کے آگے سر جھکانے والا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنی خودمختاری اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
تاریخی بداعتمادی کی وجوہات
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کی کمی کی بنیادی وجہ تاریخی بداعتمادی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ معاہدوں کی پاسداری کی جائے اور اعتماد کی فضا قائم کی جائے۔
امریکا کے رویے پر تنقید
ایرانی صدر نے امریکی حکام کے بیانات کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ متضاد اشارے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے “سرینڈر” کا مطالبہ دراصل دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رویے سے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے اور مسائل کے حل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
ایرانی قوم کا مؤقف
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایرانی قوم طاقت کے آگے جھکنے والی نہیں اور اپنے قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گی۔ ان کے مطابق ایران امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
نتیجہ
ایرانی صدر کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں برابری اور باہمی احترام کی بنیاد چاہتا ہے۔ جب تک اعتماد کی بحالی اور معاہدوں کی پاسداری یقینی نہیں بنائی جاتی، اس وقت تک تعلقات میں بہتری مشکل دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
اسلام آباد ریڈ زون کے تمام وفاقی اداروں کو آج ورک فرام ہوم کی ہدایت










