ٹی بی ایک بڑا چیلنج
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا۔ کہ تپِ دق (ٹی بی) آج بھی متعدی امراض میں سرفہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک بڑا صحت، سماجی اور معاشی چیلنج ہے۔ یہ بیماری بالخصوص کمزور طبقات کو متاثر کرتی ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات جیسے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
حکومت کی حکمت عملی
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے تپِ دق کے خاتمے کو صحتِ عامہ کی اہم ترجیح قرار دیا ہے۔ ایک جامع حکمت عملی کے تحت مرض کی بروقت تشخیص، معیاری علاج تک رسائی، بیماری کی روک تھام اور مریضوں کی نگہداشت کے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
تشخیصی سہولیات اور نگرانی
شہباز شریف نے کہا۔ کہ جدید تشخیصی سہولیات کو وسعت دی جا رہی ہے۔ لیبارٹری نیٹ ورک کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ بنیادی صحت کے مراکز میں ٹی بی کی خدمات کو مربوط کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ملک بھر میں مسلسل علاج کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
عوامی شمولیت اور کمیونٹی کردار
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا۔ کہ تپِ دق کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ معاشرتی اسٹیگما کے خاتمے، بروقت تشخیص اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی، محققین اور نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے۔
بین الاقوامی تعاون
شہباز شریف نے کہا۔ کہ بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور مستقل عالمی فنڈنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات، نجی شعبے، میڈیا اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ کوئی بھی ٹی بی کا مریض نظرانداز نہ ہو۔
مزید پڑھیں
پاکستان میں 5 جی سروسز کا آغاز، 3 کمپنیوں کو لائسنس دے دیا گیا










