مصنوعی ذہانت اوربھیجا فرائی
ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے۔ کہ مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے والے افراد ذہنی تھکاوٹ یا “بھیجا فرائی” جیسی کیفیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل ڈیجیٹل ٹولز پر انحصار، معلومات کی زیادتی اور تیز رفتار فیصلہ سازی کا دباؤ ذہن پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا۔ کہ ایسے صارفین جو طویل وقت تک اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں۔ ان میں توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ اور فیصلہ سازی میں سستی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو بیک وقت متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔
تحقیق کا خلاصہ
ہارورڈ بزنس ریویو کے محققین نے امریکا میں مختلف صنعتوں کے 1500 ملازمین کا سروے کیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کام کی کارکردگی تو بڑھ سکتی ہے۔ مگر صارفین شدید ذہنی تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں۔
بھیجا فرائی کی علامات
شرکا نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے مسلسل استعمال سے انہیں سر درد، فیصلہ سازی میں سستی اور ذہنی دھندلاہٹ جیسے اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔
تحقیق کے اہم نکات
مصنوعی ذہانت کے آلات سے کام کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ مگر ذہنی دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ مستقل مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے ملازمین توجہ مرکوز کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ محققین نے اس کیفیت کے لیے بھیجا فرائی کی اصطلاح استعمال کی۔
مزید پڑھیں
بینائی مضبوط رکھنے کے لیے کون سی غذائیں مفید ہیں؟ ماہرین کی اہم ہدایات











