اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا جس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معاشی حلقے اس فیصلے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات اور عالمی معاشی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
شرح سود برقرار رہنے کا امکان
معاشی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک ممکنہ طور پر شرح سود کو 10.5 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر مرکزی بینک محتاط فیصلہ کر سکتا ہے۔
عالمی حالات کا معاشی فیصلوں پر اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کم ہونے کے باعث شرح سود میں کمی کے امکانات بھی محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی پالیسی میں محتاط رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی نظریں فیصلے پر
ماہرین کے مطابق مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک معیشت میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی نظریں اس فیصلے پر مرکوز ہیں کیونکہ اس کے اثرات کاروبار، سرمایہ کاری اور قرضوں کی لاگت پر پڑتے ہیں۔
رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی
یاد رہے کہ سال 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 26 جنوری کو جاری کی تھی جس میں معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا










