خاموش مگر خطرناک
ہائی کولیسٹرول ایک ایسا خاموش دشمن ہے جو برسوں تک جسم میں موجود رہ سکتا ہے اور اکثر افراد کو اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب دل یا دماغ متاثر ہو جائیں۔
کولیسٹرول کیا ہے؟
کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں گردش کرتا ہے۔ جسم خود اسے جگر سے تیار کرتا ہے اور باقی حصہ گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ سے حاصل ہوتا ہے۔
اچھا اور برا کولیسٹرول
اچھا کولیسٹرول یا ایچ ڈی ایل خون سے اضافی کولیسٹرول صاف کرتا ہے، جبکہ برا کولیسٹرول یا ایل ڈی ایل شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو کر انہیں تنگ اور سخت بنا سکتا ہے۔
علامات اور خطرات
ہائی کولیسٹرول ابتدا میں علامات پیدا نہیں کرتا، لیکن جب شریانیں زیادہ تنگ ہو جائیں تو سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، ٹانگوں میں تکلیف، دل کا دورہ یا فالج جیسے مسائل ظاہر ہو سکتے ہیں۔
ٹیسٹ اور تشخیص
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، مٹاپے یا تمباکو نوشی کرنے والے افراد باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروائیں۔ بعض افراد کو ہر چھ ماہ اور بعض کو سال میں ایک مرتبہ یہ ٹیسٹ ضروری ہے۔
احتیاطی تدابیر
متوازن غذا کولیسٹرول قابو میں رکھنے کے لیے بنیادی ہے۔ چکنائی والے دودھ اور سرخ گوشت محدود رکھیں، فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے دالیں، جئی اور سیب شامل کریں۔ انڈے کی سفیدی استعمال کریں اور زردی اعتدال میں رکھیں۔
ورزش اور طرزِ زندگی
روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز چہل قدمی اور ہفتے میں 150 منٹ معتدل ورزش کولیسٹرول کی سطح بہتر رکھتی ہیں۔
بروقت آگاہی ضروری
چونکہ ہائی کولیسٹرول کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں، خون کا باقاعدہ معائنہ اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیاں دل کے دورے جیسے خطرات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں
برطانیہ میں ڈاکٹر نے روبوٹ کے ذریعے 1500 میل دور مریض کا کامیاب آپریشن کیا










