سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا حکم، گیس بھی بلاتعطل جاری پابندیاں ناکام، ایمان غالب؛ مسجد اقصیٰ میں تراویح کے لیے سمندر امڈ آیا عمران خان کی آنکھ کا معاملہ سنجیدہ، اس پر سیاست نہیں ہو رہی: بیرسٹر گوہر شہباز شریف اور امیر قطر کا ٹیلیفونک رابطہ، امن و استحکام پر ملکر کام کرنے پراتفاق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

عمران خان کی آنکھ کا معاملہ سنجیدہ، اس پر سیاست نہیں ہو رہی: بیرسٹر گوہر

PTI leaders addressing media regarding Imran Khan eye health issue

صحت کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، سیاست نہ کی جائے

وکیل گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس پر کوئی سیاست نہیں کی جا رہی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ بانی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالج یا اہلِ خانہ کو رسائی دی جائے۔

اسپتال منتقلی اور ذاتی معالج تک رسائی کا مطالبہ

بیرسٹر گوہر کے مطابق پارٹی کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو مکمل طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طبی معائنہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ چاہتے تھے معائنہ جیل کے بجائے اسپتال میں ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں پر پابندی لگا کر معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

آنکھ کی حالت پر متضاد رپورٹس

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق آنکھ میں مسئلہ موجود ہے، جبکہ سرکاری رپورٹ میں آنکھ کی حالت میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، جو بانی کے ذاتی معالج ہیں، کو اندر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ ان کے مطابق اصل صورتِ حال وہی بتا سکتے ہیں جب انہیں معائنہ کرنے دیا جائے گا۔

ملاقاتوں پر پابندی اور جیل کی صورتحال

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جبکہ بانی کی تینوں بہنوں کو بھی عدیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرائی گئی جو تقریباً 30 منٹ جاری رہی۔ بشریٰ بی بی کی فیملی سے بھی ملاقات کی گئی۔

اپوزیشن اتحاد کا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ

ادھر اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر دھرنا اور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے علاج میں تاخیر کا ذمہ دار علیمہ خان کو قرار دیا ہے، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں
پابندیاں ناکام، ایمان غالب؛ مسجد اقصیٰ میں تراویح کے لیے سمندر امڈ آیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین