پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی متوقع، 20 جون سے نئے نرخ نافذ ہونے کا امکان امریکا اور ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر، آج سوئٹزرلینڈ میں اہم ملاقات بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے، سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: اسحاق ڈار قائمہ کمیٹی کی منظوری، غیر رجسٹرڈ کاروبار اور سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ، سرحدی کشیدگی کم کرنے پر بات چیت

Pakistan and India DGMO contact over ceasefire arrangements

پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اہم رابطہ

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ایک اور اہم رابطہ ہوا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔

معمول کی پوزیشن پر واپسی کا عمل

ذرائع کے مطابق پیر کے روز ہونے والے اس رابطے کا مقصد دونوں مسلح افواج کو زمانہ امن کی پوزیشنوں پر واپس لے جانا ہے۔ یہ سیز فائر کے اگلے مرحلے کی جانب ایک عملی قدم ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیز فائر کے بعد مسلسل رابطے

اس سے قبل بھی پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہو چکا ہے۔ یہ حالیہ رابطہ، سیز فائر معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا تیسرا اہم رابطہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق کشیدگی کم کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

پس منظر: بڑھتی کشیدگی اور افواج کی موجودگی

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے جارحیت کے بعد دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے آ گئی تھیں، جس سے خطے میں خطرات بڑھ گئے تھے۔ تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک سفارتی اور عسکری سطح پر کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں۔

نتیجہ

ڈی جی ایم اوز کے درمیان یہ مسلسل روابط ایک مثبت علامت ہیں کہ پاکستان اور بھارت خطے میں امن کے لیے عملی اقدامات کرنے پر آمادہ ہیں۔ سیز فائر پر عملدرآمد اور افواج کی پرانی پوزیشنوں پر واپسی جیسے اقدامات مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

سینیٹر عرفان صدیقی: عمران خان سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین