ماں کی صحت اور طرزِ زندگی: بچوں میں مٹاپے کے بڑھتے ہوئے خطرات
ایک نئی تحقیق کے مطابق، ماں کی صحت اور طرزِ زندگی کے انتخاب اس کے بچوں کے بالغ ہونے پر مٹاپے کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عوامل بچے کی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہی اس کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج: مٹاپے کے امکانات
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ اگر کوئی خاتون خود مٹاپے کا شکار ہو، تو اس کے بچے کے بالغ ہونے پر مٹاپے کا امکان تین سے چار گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، ماں کی سگریٹ نوشی بچوں میں مٹاپے کے خطرے کو 60 سے 80 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔ یہ نتائج ماؤں کے طرزِ زندگی کے صحت پر پڑنے والے دیرپا اثرات کو واضح کرتے ہیں۔
طویل المدتی اثرات اور تحقیق کا دائرہ
برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کی محقق گلینا نائٹنگیل کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ زچگی کے اثرات بچے کی 42 سال کی عمر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، یہ اثرات موجودہ مٹاپے کی عالمی وبا کے ابھرنے سے پہلے بھی نمایاں طور پر موجود تھے۔
تحقیقی طریقہ اور مطالعہ
یہ تحقیق تقریباً 11,500 بچوں کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی تھی، جو مارچ 1958 میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں ایک ہفتے کے دوران پیدا ہونے والے بچوں پر ہونے والے برطانوی مطالعے میں شامل تھے۔ یہ تحقیق اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ ابتدائی زندگی کے عوامل، بشمول والدین کی صحت اور عادات، بچوں کی مستقبل کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔