موسمیاتی تبدیلی: کاربن کے اخراج میں کمی کے باوجود خطرات برقرار
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کاربن کے اخراج کو محدود کرنے کے باوجود مستقبل میں انسانیت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ عالمی ماحول کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیقی نتائج: ممکنہ خطرات
جرمنی کے پوٹسڈیم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ (PIK) کے ماہرین کے مطابق، سال 2200 تک زمین کا درجہ حرارت 7 ڈگری سیلسیئس (12.6 ڈگری فیرنہائٹ) تک بڑھ سکتا ہے، حالانکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کی جا رہی ہے۔
ماحولیاتی اثرات: غذائی اور انسانی بحران
یہ درجہ حرارت عام فصلوں کی کاشت کے لیے انتہائی نامناسب ہوگا، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت اور خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، برف کے پگھلنے کے نتیجے میں سطح سمندر میں اضافہ ہوگا، جو ساحلی شہروں کے مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتا ہے۔
شدید موسمی تبدیلیاں: عالمی خطرہ
تحقیق کے مطابق، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دنیا کو مزید شدید موسمی حالات جیسے خشک سالی، گرمی کی شدید لہریں، جنگل کی آگ، طوفان اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر گرمیوں میں درجہ حرارت انتہائی حد تک پہنچ سکتا ہے، جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔