نایاب فلکیاتی منظر: بلیز اسٹار جلد آسمان پر چمکے گا
ایک سال سے زیادہ کے انتظار کے بعد، ماہرین فلکیات کے مطابق، تین ہزار نوری سال کی دوری پر موجود ستاروی نظام آسمان پر نمودار ہونے والا ہے۔ اس نایاب فلکیاتی مظہر کو عام آنکھ سے بھی دیکھا جا سکے گا۔
بلیز اسٹار: ایک نایاب فلکیاتی مظہر
خلاء میں دور دراز فاصلے پر واقع یہ ستارہ، جسے ’بلیز اسٹار‘ کہا جاتا ہے، عام طور پر دھندلا دکھائی دیتا ہے اور صرف طاقتور ٹیلی اسکوپ سے ہی دیکھا جا
سکتا ہے۔ تاہم، ہر 80 سال میں ایک بار، یہ ستارہ نووا کے عمل سے گزرتا ہے، جس کے دوران اس کی چمک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ برہنہ آنکھ سے نظر آتا ہے۔
27 مارچ کا فلکیاتی لمحہ
اگر بلیز اسٹار 27 مارچ کو نمودار ہوتا ہے، تو فلکیاتی شوقین افراد کو ایک نایاب موقع ملے گا کہ وہ اس شاندار منظر کا مشاہدہ کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ تقریباً ایک ہفتے تک آسمان پر نظر آئے گا۔
پچھلی پیشگوئیاں کیوں غلط ثابت ہوئیں؟
سائنس دانوں نے اس سے قبل پیشگوئی کی تھی کہ بلیز اسٹار 2023 کے آخر میں ظاہر ہوگا، کیونکہ پچھلے نووا میں یہی عمل دیکھا گیا تھا۔ تاہم، متعدد پیشگوئیوں کے باوجود، ستارہ منظر پر نہیں آیا۔
نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟
اب فرانس کی پیرس آبزرویٹری کے ماہرِ فلکیات ژاں شنائیڈر نے اپنی نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ یا تو یہ ستارہ اس ہفتے کے اندر نمودار ہوگا، یا پھر آئندہ سات مہینوں میں کسی بھی وقت ظاہر ہو سکتا ہے۔
زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع
اگر یہ ستارہ ظاہر ہوتا ہے، تو یہ ایک نادر فلکیاتی لمحہ ہوگا جو ایک عام انسان کی زندگی میں صرف ایک بار دیکھنے کو ملتا ہے۔ فلکیاتی ماہرین اور فلک بینوں کے لیے یہ ایک شاندار موقع ہے کہ وہ اس نایاب منظر کا لطف اٹھائیں اور کائنات کے حیرت انگیز رازوں میں ایک اور اضافہ دیکھ سکیں۔