‏نوبل انسٹیٹیوٹ نے عمران خان کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی کا دعویٰ مسترد کردیا دو درجن کے قریب امریکی ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا ایران نے ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیانات کیخلاف سلامتی کونسل میں شکایت کردی

ہم مختلف امکانات پر غور و فکر کر رہے ہیں، رؤف حسین

PTI's political strategy, the threats of hybrid warfare, and the potential reduction in electricity rates—a detailed analysis by PTI leader Rauf Hassan. Learn the complete situation in this article.

پاکستان تحریک انصاف کی حکمت عملی اور ہائبرڈ وار کے چیلنجز

پاکستان کی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور تحریک انصاف اپنی پالیسیوں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھال رہی ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما رؤف حسن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ پی ٹی آئی ایک متحرک سیاسی جماعت ہے اور اس وقت اس کی تمام توجہ عمران خان کی رہائی پر مرکوز ہے۔

یہ مضمون پی ٹی آئی کی حالیہ پالیسیوں، ملک میں جاری ہائبرڈ وار کے چیلنجز اور بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی پر تفصیل سے روشنی ڈالے گا۔

عمران خان کی رہائی: پی ٹی آئی کا مرکزی ایجنڈا

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما رؤف حسن نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے اور عید کے بعد انہیں عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

رؤف حسن کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت مکمل طور پر عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور ان کے بغیر پارٹی کے فیصلے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں قیادت کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہیں اور تمام فیصلے عمران خان کی رہنمائی میں کیے جا رہے ہیں۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف اپنی قیادت اور حکمت عملی کے حوالے سے یکسو ہے اور وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان ہائبرڈ وار کے شکنجے میں؟

ملک کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہائبرڈ وار کا شدید شکار بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، ففتھ جنریشن وار، پراکسی وار، اسٹیٹ سپانسرڈ ٹیررازم اور انسُرجنسی جیسے مختلف حربے پاکستان کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک کے خلاف ایک پیچیدہ حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بدامنی پیدا کی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائبرڈ وار کے ذریعے معلوماتی جنگ چھیڑ دی گئی ہے، جس میں عوام کو غلط معلومات فراہم کر کے ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کیا جا رہا ہے، پراکسی وار کے ذریعے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی جا رہی ہے اور انسُرجنسی کے ذریعے ریاستی اداروں کو براہ راست چیلنج کیا جا رہا ہے۔

یہ بیانات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی سازشوں میں گھرا ہوا ہے، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی: حقیقت یا صرف دعویٰ؟

نمائندہ ایکسپریس نیوز ارشاد انصاری نے بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس معاملے پر دو مختلف نکات زیر بحث ہیں۔

ایک پہلو یہ ہے کہ حکومت کیپٹیو پاور پلانٹس کو دی جانے والی گیس پر گرڈ لیوی عائد کر رہی ہے، جس کا مقصد ان صنعتی یونٹس کو قومی گرڈ سے بجلی لینے کی ترغیب دینا ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہوگا، لیکن اس کے اثرات صنعتی پیداوار پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، وزیر اعظم نے عندیہ دیا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں چھ سے سات روپے فی یونٹ تک کمی کی جا سکتی ہے، لیکن حکومت کی ابتدائی دعوے کے مطابق بجلی آٹھ روپے فی یونٹ تک سستی ہو سکتی تھی۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اور ماہرین اس کے حقیقی اثرات پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے شدید بے یقینی پائی جاتی ہے، کیونکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بجلی کے نرخوں میں کسی نمایاں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

نتیجہ

پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور دفاعی لحاظ سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف اپنی سیاسی بقا اور عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم عمل ہے، جبکہ دوسری طرف ہائبرڈ وار اور ففتھ جنریشن وار کے خطرات ملک کے استحکام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

حکومت بجلی کے نرخوں میں کمی کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے تو کر رہی ہے، مگر حقیقت میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے ابھی کوئی عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔ آنے والے دنوں میں ان پالیسیوں پر عمل درآمد اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی ملک کی سیاست میں مزید تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

عمران خان کا معافی کا اعلان، اسٹیبلشمنٹ بھی راضی – علی امین گنڈاپور

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین